نئی دہلی،14؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )یوپی اسمبلی میں پلاسٹک دھماکہ خیز ملنے کے بعد ملک بھر میں اسمبلیوں کی سیکورٹی کے نظام کا جائزہ لیا جا رہا ہے، اگرچہ پارلیمنٹ ہاؤس میں یہ خبر آنے سے ایک دن پہلے ہی یعنی جمعرات کو ساری سیکورٹی کے نظام کا جائزہ لیاگیا۔اس پر عمل چھ سے آٹھ گھنٹے تک چلا اور اس میں سیکورٹی کے نظام سے منسلک ساری ایجنسیاں شامل رہیں۔ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے گئے ہیں۔خاص زور ہیومن انٹیلی جنس پرہے۔اس کے لئے خفیہ ایجنسیوں کی بھی مددلی جارہی ہے۔نہ صرف پارلیمنٹ ہاؤس میں آنے جانے والے بلکہ وہاں آنے والے اشیاء اور دستاویزات کے بارے میں بھی اطلاعات کوجمع کی جا رہی ہیں۔خفیہ ایجنسیاں پارلیمنٹ ہاؤس کے ارد گرد کے علاقوں میں ہو رہی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھ رہی ہیں۔اس بار سیکورٹی کے نظام پر زیادہ زور اس لئے بھی ہے کیونکہ پیر کو صدر کا انتخاب ہونا ہے اور 25جولائی کو نئے صدرکی حلف برداری کی تقریب ہوگا۔اسی سیشن کے دوران نائب صدر کا انتخاب بھی ہوگا۔بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ دروازوں پر گاڑیوں کی چھان بین کے لئے نئے آلات لگائے گئے ہیں۔ان کے ذریعے اسکیننگ کرکے یہ پتہ لگایاجاسکتاہے کہ جن گاڑیوں کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر داخل کی اجازت ہے ان میں کسی طرح کی تبدیلی تونہیں کی گئی ہے۔ہر دروازے پر تعینات سیکوریٹی اہلکار گاڑی کے اندر جھانک جھانک کراس بیٹھے افراد کی شناخت کرتے ہیں۔کسی بھی قسم کی گڑبڑ ہونے پر گاڑی کے آگے آٹومیٹک بیرکیڈ آ جائے گااوروہ آگے نہیں جاسکے گی۔